سماں[1]
معنی
١ - وقت، زمانہ، دور۔ "اوسط طبقہ اور نچلا طبقہ نسبتاً بہت مطمئن تھا، تھوڑا کھاتے تھے اور سکھی رہتے تھے سستا سماں تھا۔" ( ١٩٧٠ء، تاثرات، ٢٩٦ ) ٢ - رت، موسم۔ "اگر برسات کا سماں ہو تو اینٹوں کے میدان میں بانس کے سبک فریم تیار ہیں۔" ( ١٩٤٨ء، اشیائے تعمیر (ترجمہ)، ٣٦ ) ٣ - عالم، کیفیت، حالت۔ "یہ موت کے بعد کا سماں ہو گا، جس کو برزخ کا عالم کہتے ہیں۔" ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٦٥٥:٤ ) ٤ - نظارہ، منظر۔ "مجھے ان کی روانگی کا منظر دیکھ کر ان کی آمد کا سماں یاد آگیا۔" ( ١٩٧٧ء، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ١١٦ ) ٥ - اچھی فصل، ارزانی، فراوانی کا زمانہ (کال کی ضد)۔ "حضرت یوسفؑ نے اس کے خواب کی صحیح تعبیر بتائی اور کہاں کہ سات برس تک ملک میں سماں رہے گا۔" ( ١٩٢٨ء، سلیم (وحید الدین)، افادات سلیم، ١١٧ ) ٦ - رونق، بہار، چہل پہل۔ "اسٹیشن بڑا بارونق تھا اور جب سواری گاڑیوں کی آمدو رفت ہوتی تو اور بھی پر لطف سماں ہوتا۔ ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٧٢ ) ٧ - راگ رنگ کا مزہ۔ راگ اس کا یہ کچھ سماں لایا چشم گردوں میں اشک بھر آیا ( ١٧٩١ء، حسرت لکھنوی، طوطی نامہ، ١٣٣ ) ٨ - موقع، محل۔ "چناپا۔ کریم بیگ جی۔ ابھی اس تعریف کا سماں نہیں۔" ( ١٩٢٤ء، پنجاب میل، ٥٧ )
اشتقاق
سنسکرت زبان کے لفظ 'سمے' سے ماخوذ ہے اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم مستعمل ہے ١٧٨٠ء کو "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وقت، زمانہ، دور۔ "اوسط طبقہ اور نچلا طبقہ نسبتاً بہت مطمئن تھا، تھوڑا کھاتے تھے اور سکھی رہتے تھے سستا سماں تھا۔" ( ١٩٧٠ء، تاثرات، ٢٩٦ ) ٢ - رت، موسم۔ "اگر برسات کا سماں ہو تو اینٹوں کے میدان میں بانس کے سبک فریم تیار ہیں۔" ( ١٩٤٨ء، اشیائے تعمیر (ترجمہ)، ٣٦ ) ٣ - عالم، کیفیت، حالت۔ "یہ موت کے بعد کا سماں ہو گا، جس کو برزخ کا عالم کہتے ہیں۔" ( ١٩٣٢ء، سیرۃ النبیۖ، ٦٥٥:٤ ) ٤ - نظارہ، منظر۔ "مجھے ان کی روانگی کا منظر دیکھ کر ان کی آمد کا سماں یاد آگیا۔" ( ١٩٧٧ء، میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ١١٦ ) ٥ - اچھی فصل، ارزانی، فراوانی کا زمانہ (کال کی ضد)۔ "حضرت یوسفؑ نے اس کے خواب کی صحیح تعبیر بتائی اور کہاں کہ سات برس تک ملک میں سماں رہے گا۔" ( ١٩٢٨ء، سلیم (وحید الدین)، افادات سلیم، ١١٧ ) ٦ - رونق، بہار، چہل پہل۔ "اسٹیشن بڑا بارونق تھا اور جب سواری گاڑیوں کی آمدو رفت ہوتی تو اور بھی پر لطف سماں ہوتا۔ ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٧٢ ) ٨ - موقع، محل۔ "چناپا۔ کریم بیگ جی۔ ابھی اس تعریف کا سماں نہیں۔" ( ١٩٢٤ء، پنجاب میل، ٥٧ )